لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ پروجیکٹ میں 16 ارب روپے کے پلاٹ اسکینڈل کا انکشاف

لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ پروجیکٹ میں نیب تحقیقات کے دوران ایک بڑے لیاری ایکسپریس وے پلاٹ اسکینڈل کا انکشاف ہوا ہے، جس میں 16 ارب روپے سے زائد مالیت کے پلاٹس اور زمینوں میں بے ضابطگیوں کا پتہ چلا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق منصوبے میں ہزاروں غیرقانونی پلاٹس بنائے گئے، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔
نیب دستاویزات کے مطابق پروجیکٹ ڈائریکٹر نے منصوبے میں موجود تقریباً 9 ہزار غیرقانونی پلاٹس کو منسوخ کرنے کی سفارش کی ہے۔ تحقیقات کے دوران مختلف ہاؤسنگ اسکیموں میں منظور شدہ نقشوں اور لے آؤٹس سے ہٹ کر پلاٹس کی تخلیق کا انکشاف ہوا۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ متعدد اسکیموں میں گرین بیلٹس، سروس روڈز اور اوپن اسپیسز پر تجاوزات کرکے پلاٹس بنائے گئے۔ یہ تمام پلاٹس منظور شدہ منصوبہ بندی کے برعکس قائم کیے گئے، جس سے شہری منصوبہ بندی کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہوئی۔
مزید پڑھیں: امریکا اور ایران نے مذاکرات کیلئے فیلڈ مارشل عاصم منیر پر اعتماد کیا، محسن نقوی
مزید انکشافات کے مطابق ہزاروں کمرشل پلاٹس بھی اصل ماسٹر پلان سے ہٹ کر تخلیق کیے گئے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے غیرقانونی اور اضافی منظور شدہ تعداد سے زیادہ بنائے گئے تمام پلاٹس کی منسوخی کی سفارش کی تاکہ مستقبل میں مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
دستاویزات کے مطابق ان بے ضابطگیوں کے باعث سرکاری خزانے کو کم از کم 16 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ وزیراعظم آڈٹ ٹیم کی رپورٹ میں بھی ان خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لیاری ایکسپریس وے پلاٹ اسکینڈل سے متعلق متنازع پلاٹس کی فہرست مزید کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کو ارسال کر دی گئی ہے۔















