شیخ حسینہ واجد کی سزائے موت کے بعد بنگلہ دیش میں امن و امان کی سنگین صورتِ حال، 1,649 افراد گرفتار

ڈھاکا: بنگلہ دیش میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کو ٹربیونل کی جانب سے سزائے موت سنائے جانے کے بعد ملک بھر میں بھڑکنے والے پرتشدد واقعات کے پیش نظر پولیس نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 1,649 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ اعداد و شمار پولیس ہیڈکوارٹر کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان میں فراہم کیے گئے۔
پولیس کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں کی گئی کارروائیوں کے دوران 10 غیر قانونی اسلحے، 30 کلوگرام سے زائد بارود، گولیاں اور دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔
ان کارروائیوں میں تیزی اُس وقت آئی جب انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے جولائی میں ہونے والے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور سابق وزیر داخلہ اسد الزمان خان کمال کو سزائے موت کا حکم دیا۔ فیصلے کے بعد ملک کے مختلف اضلاع میں آتشزدگی، توڑ پھوڑ اور دھماکوں کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
گزشتہ ہفتے کے دوران ملک بھر میں 40 سے زیادہ گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی جبکہ متعدد مقامات پر دیسی بموں کے دھماکے کئے گئے جس سے ماحول مزید کشیدہ ہوگیا۔
بڑھتی ہوئی بدامنی کے باعث دارالحکومت ڈھاکا میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں اضافی اہلکار حساس مقامات پر تعینات کیے گئے ہیں تاکہ مزید بگاڑ کو روکا جا سکے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتِ حال کے پیش نظر کریک ڈاؤن جاری رہے گا اور امن و امان کی بحالی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔












