ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا سے کبھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور ملک اپنے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے امریکا سے جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور ایران اپنی خودمختاری اور عوام کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے اب تک نہ تو کسی قسم کے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی باضابطہ درخواست دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ایران مذاکرات یا کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ایک مضبوط اور مستحکم ملک ہے اور وہ صرف اپنے عوام کے دفاع کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران اس پالیسی پر اس وقت تک قائم رہے گا جب تک امریکا یہ نہیں سمجھ لیتا کہ یہ ایک غیر قانونی جنگ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوئٹزرلینڈ نے غیر جانبداری کے قانون کے تحت دو امریکی فوجی پروازوں کو فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا
ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے ساتھ ماضی میں مذاکرات کا تجربہ اچھا نہیں رہا۔ ان کے مطابق جب ایران مذاکرات کر رہا تھا تو اسی دوران امریکا کی جانب سے حملہ کیا گیا، اس لیے موجودہ حالات میں امریکا سے بات چیت کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
عباس عراقچی نے مزید بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے حوالے سے کئی ممالک نے ایران سے رابطہ کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم ایرانی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران نے امریکا سے جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور ایران اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔













