اسرائیل کو امن عمل کا احترام کرنا ہوگا، بیروت میں شہریوں پر حملے ناقابل قبول ہیں: جے ڈی وینس

امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے بعد خطے میں استحکام کے مثبت آثار سامنے آ رہے ہیں اور امریکا ایران معاہدہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک رات میں ایک کروڑ 20 لاکھ بیرل سے زائد تیل آبنائے ہرمز سے منتقل کیا گیا، جو سمندری راستوں کے کھلے رہنے کی نشاندہی کرتا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نے اب تک کسی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا اور وہ مفاہمتی یادداشت میں شامل آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی شق پر عمل کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا 60 روزہ دورانیہ آج سے شروع ہو چکا ہے۔
امریکی نائب صدر کے مطابق ایران کی بڑی فوجی صلاحیتیں متاثر ہو چکی ہیں اور اب تہران اپنی معیشت کی بہتری پر توجہ دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی متعدد بیلسٹک میزائل تنصیبات کو تباہ کیا ہے اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ایران علاقائی دہشت گردی کے لیے مالی معاونت نہ کر سکے۔
مزید پڑھیں: امریکا امن کیلئے پرعزم ہے، لبنان، حزب اللہ اور اسرائیل سمیت مکمل جنگ بندی کی توقع ہے: ٹرمپ
جے ڈی وینس نے کہا کہ حتمی معاہدے میں ایران کے میزائل پروگرام اور خطے کے لیے ممکنہ خطرات پر بھی بات ہوگی۔ ان کے مطابق ایران کو اپنا جوہری پروگرام دوبارہ فعال کرنے کے لیے بھاری مالی وسائل درکار ہوں گے، جبکہ پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ ایران کے مستقبل کے طرزِ عمل کو دیکھ کر کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو امن عمل کا احترام کرنا ہوگا اور بیروت میں شہری آبادی پر حملے ناقابل قبول ہیں۔ جے ڈی وینس کے مطابق امریکا ایران معاہدہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دے سکتا ہے، جبکہ امریکا مستقبل میں اپنی افواج کو جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر واپس لانے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔












