شاہراہ فیصل پر ہنگامہ آرائی اور پولیس پر حملہ

کراچی: ایف ٹی سی کے قریب شاہراہ فیصل پر ایک ریلی کے دوران شاہراہ فیصل پر ہنگامہ آرائی ہوئی، جس میں تشدد اور املاک کو نقصان پہنچا۔ اس واقعے کے حوالے سے صدر تھانے میں سرکاری مدعیت میں مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ مقدمے میں انسداد دہشت گردی، ہنگامہ آرائی اور دیگر متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں۔
مقدمے کے متن کے مطابق ریلی میں 300 سے 400 افراد شریک تھے۔ جب پولیس نے ریلی کے شرکا کو روکنے کی کوشش کی تو شاہراہ فیصل کے دونوں ٹریک بند کر دیے گئے تاکہ صورتحال قابو میں لائی جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق شرکا نے پولیس پر پتھروں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا اور فائرنگ بھی کی۔ ریڈ بس، پولیس موبائل اور ایمبولینس کو نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس نے ریلی کے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل استعمال کیے۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں بھاری جرمانوں کے خلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال
اب تک مقدمے میں 12 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ 300 سے زائد نامعلوم افراد بھی مقدمے میں شامل ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق پتھراؤ سے ہنگامہ پیدا ہوا اور پولیس کی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ شاہراہ فیصل پر ہنگامہ آرائی نے کراچی کی ایک مصروف شاہراہ پر شدید رکاوٹ پیدا کی۔ سڑک اتوار کی رات ٹریفک کے لیے کھول دی گئی، تاہم واقعے کی تحقیقات اور قانونی کارروائی جاری ہے تاکہ ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے۔












