شکیب الحسن نے جان بوجھ کر غیر قانونی ایکشن سے بولنگ کی

بنگلا دیش کے سابق کپتان اور آل راؤنڈر شکیب الحسن نے انکشاف کیا ہے کہ وہ کبھی کبھار جان بوجھ کر غیر قانونی بولنگ ایکشن کے ساتھ گیند بازی کرتے تھے۔ اس حوالے سے شکیب الحسن نے جان بوجھ کر غیر قانونی ایکشن سے بولنگ کروانے کا انکشاف کیا، جو 2024 میں انگلش کاؤنٹی کرکٹ کے دوران غیر قانونی قرار دیا گیا تھا اور اس کی وجہ سے انہیں معطل بھی کیا گیا تھا۔
شکیب الحسن نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے سرے کی جانب سے سمر سیٹ کے خلاف میچ میں 70 سے زائد اوورز کیے، جو ان کے کیریئر میں کسی بھی ٹیسٹ میچ سے زیادہ تھے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ طویل بولنگ کے دوران تھکن نے انہیں کبھی کبھار غیر قانونی ایکشن کے استعمال پر مجبور کیا۔
آل راؤنڈر نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بیک ٹو بیک ٹیسٹ میچز کھیلنے کے بعد وہ کافی تھک گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ لمبی بولنگ کے بعد چار روزہ میچز میں بھی زیادہ اوورز کرنے پڑے، جس کی وجہ سے انہیں جسمانی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید پڑھیں: فخر زمان کو امپائر سے بحث پر آئی سی سی کا جرمانہ
شکیب الحسن نے مزید کہا کہ وہ توقع کر رہے تھے کہ امپائر انہیں وارننگ دیں گے، لیکن امپائرز نے قوانین کے مطابق کارروائی کی اور ان کے بولنگ ایکشن کی رپورٹ کی۔ انہوں نے کسی بھی شکایت کا اظہار نہیں کیا، پہلے ٹیسٹ میں فیل ہوئے، اور بعد میں دوبارہ ٹیسٹ دے کر کلیئر ہو گئے۔
اس میچ میں شکیب الحسن نے مجموعی طور پر 63.2 اوورز کرائے اور رواں سال کے آغاز میں انہیں دوبارہ بولنگ کے لیے کلیئر قرار دیا گیا۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ شکیب الحسن نے جان بوجھ کر غیر قانونی ایکشن سے بولنگ کروانے کا انکشاف کیا اور آل راؤنڈرز کے لیے طویل بولنگ کے دباؤ کے چیلنجز کو اجاگر کرتا ہے۔












