06:04 , 18 جون 2026
Watch Live

امریکا اور ایران کے درمیان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کا 14 نکاتی مسودہ سامنے آگیا

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت

امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا 14 نکاتی متن منظر عام پر آگیا ہے، جس میں جنگ بندی، اقتصادی تعاون، پابندیوں میں نرمی اور جوہری پروگرام سے متعلق اہم نکات شامل ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس دستاویز کو "Islamabad Memorandum of Understanding between the United States of America and the Islamic Republic of Iran” کا نام دیا گیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے اس مفاہمتی یادداشت کا متن پڑھ کر سنایا۔ دستاویز میں دونوں ممالک اور ان کے اتحادیوں کے درمیان فوری اور مستقل جنگ بندی، لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

مسودے کے مطابق امریکا اور ایران ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور اندرونی معاملات میں مداخلت سے اجتناب کریں گے۔ دونوں ممالک 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدے پر مذاکرات کریں گے، جبکہ امریکا ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور ایران آبنائے ہرمز اور خلیجی راستوں میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنائے گا۔

دستاویز میں ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے منصوبے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا ایران پر عائد مختلف مالی اور اقتصادی پابندیوں کو مرحلہ وار ختم کرے گا، جبکہ ایران نے دوبارہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنائے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا۔ افزودہ یورینیم کے ذخائر اور دیگر جوہری معاملات پر بھی مزید مذاکرات کیے جائیں گے۔

مسودے کے مطابق دونوں ممالک حتمی معاہدے تک موجودہ صورتحال برقرار رکھیں گے، جبکہ ایرانی تیل کی فروخت، منجمد اثاثوں کے اجرا اور معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے مشترکہ نظام قائم کیا جائے گا۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والے حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION