ایف اے ٹی ایف بلز اور آئی ایس آئی ان پٹ سے متعلق خواجہ آصف کے بیان پر اسد قیصر کا جواب

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلز اور آئی ایس آئی افسران کی مبینہ موجودگی پر وفاقی وزیر خواجہ آصف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انٹیلی جنس حکام صرف تکنیکی امور پر اپنی رائے اور ان پٹ دیتے تھے۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ خواجہ آصف نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے گھر میں آئی ایس آئی افسران کے ساتھ ملاقاتیں ہوتی تھیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایسی ملاقاتیں اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ہوتی تھیں، نہ کہ کسی ذاتی رہائش گاہ پر۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی افسران ایف اے ٹی ایف اور اینٹی منی لانڈرنگ سے متعلق بلز پر اپنی تکنیکی رائے دیتے تھے، جبکہ ان کا کردار حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قانون سازی کے عمل میں سہولت کاری کا تھا تاکہ اہم بلز پر پیش رفت ممکن ہو سکے۔
اسد قیصر نے سیاسی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف اپنے ضمیر کے بوجھ کی بات کرتے ہیں، لیکن انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات کیا ان کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر خواجہ آصف کو واقعی ضمیر کا بوجھ محسوس ہوتا ہے تو انہیں اپنی نشست سے استعفیٰ دے کر دوبارہ انتخابات میں حصہ لینا چاہیے، اور ریحانہ ڈار سے مقابلہ کرنا چاہیے۔ ایف اے ٹی ایف بلز پر اسد قیصر کا ردعمل سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا باعث بن گیا ہے۔
















