06:04 , 18 جون 2026
Watch Live

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا حتمی متن طے، ایران نے تصدیق کردی

امریکا ایران مفاہمتی یادداشت

امریکا اور ایران کے درمیان امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کا حتمی متن طے پا گیا ہے اور دونوں ممالک نے اس پر الیکٹرانک دستخط بھی کر دیے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ اب عمل درآمد کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں فوری مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے بتایا کہ معاہدے کے متن پر ایران اور امریکا کے صدور نے دستخط کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات دراصل معاہدے پر دستخط کے لیے نہیں تھی، اور اب چونکہ متن پر اتفاق ہو چکا ہے، اس لیے یہ ملاقات ممکن ہے نہ ہو۔ تاہم جنیوا میں مذاکراتی ٹیموں کی موجودگی شیڈول کے مطابق برقرار رہے گی۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام اور بحری راستوں کی سلامتی ایران اور عمان کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھتا ہے تو اسے معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے مختلف پہلوؤں پر جلد مذاکرات شروع ہوں گے۔

مزید پڑھیں: امریکا اور ایران کے درمیان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کا 14 نکاتی مسودہ سامنے آگیا

اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران اپنے میزائل پروگرام پر کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گا اور نہ ہی ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس افزودہ یورینیم کو کم درجے پر لانے کے مختلف آپشن موجود ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے بدلے فیس بھی وصول کی جائے گی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایران پر عائد تیل سے متعلق پابندیاں ختم کی جائیں اور ایران کو آئندہ 60 دنوں تک آزادانہ طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت دی جائے۔ اسماعیل بقائی کے مطابق امریکا کو ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی میں حائل رکاوٹیں بھی دور کرنا ہوں گی اور اس دوران نئی پابندیاں یا خطے میں فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے بقول امریکا ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION