بنگلا دیشی عدالت نے شیخ حسینہ اور ٹیولپ صدیق کو قید کی سزا سنادی

بنگلادیش کی ایک عدالت نے سرکاری رہائشی پلاٹس کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے مقدمے میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد، ان کی بہن شیخ ریحانہ اور برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ٹیولپ صدیق کو سزا سناتے ہوئے مجرم قرار دے دیا۔
فیصلے کے مطابق برطانوی لیبر پارٹی کی رکن اور سابق وزیر ٹیولپ صدیق کو نیو ٹاؤن پروجیکٹ کرپشن کیس میں ملوث پایا گیا، جہاں انہوں نے اپنے خاندان کے لیے غیر قانونی طور پر زمین حاصل کرنے میں کردار ادا کیا۔
عدالت نے ٹیولپ صدیق پر ایک لاکھ بنگلادیشی ٹکا جرمانہ عائد کیا ہے اور ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں چھ ماہ اضافی قید کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو پانچ سال اور ان کی بہن شیخ ریحانہ کو سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، جبکہ ریحانہ پر بھی ایک لاکھ ٹکا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شیخ حسینہ واجد کی سزائے موت کے بعد بنگلہ دیش میں امن و امان کی سنگین صورتِ حال، 1,649 افراد گرفتار
مزید برآں وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ پبلک ورکس اور ترقیاتی ادارے کے 14 سینئر افسران کو بھی بدعنوانی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے پانچ سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
استغاثہ کے مطابق ٹیولپ صدیق نے اپنی سیاسی حیثیت کا استعمال کرتے ہوئے اپنی والدہ شیخ ریحانہ، بہن اَزمیرہ صدیق اور بھائی ردوان مجیب کے لیے پورباچال ہاؤسنگ پروجیکٹ میں تین قیمتی رہائشی پلاٹس الاٹ کرائے۔
موجودہ کیس میں صرف شیخ ریحانہ سے متعلق الاٹمنٹ شامل ہے، جبکہ اَزمیرہ اور ردوان کے خلاف الگ مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔











