پاکستان سے ادویات کی پابندی کے بعد افغانستان میں بحران

افغان طالبان کے پاکستان سے ادویات کی تجارت روکنے کے فیصلے کے بعد افغانستان میں ادویات کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ طالبان حکومت کے نائب سربراہ اور معاشی امور کے نگران عبدالغنی برادر نے پاکستانی ادویات کو ناقص قرار دیتے ہوئے مکمل پابندی کا اعلان کیا۔ افغان درآمد کنندگان کو ہدایت دی گئی کہ وہ تین ماہ کے اندر پاکستانی کمپنیوں کے واجبات ادا کریں اور ادویات کے لیے نئے ذرائع تلاش کریں۔
جرمن میڈیا کے مطابق افغانستان کے لیے نئے سپلائرز تلاش کرنا آسان نہیں ہے۔ موجودہ وقت میں افغانستان میں استعمال ہونے والی زیادہ تر ادویات پاکستان سے آتی ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان طویل سرحد پر گزشتہ دو ماہ سے کشیدگی اور جھڑپیں جاری ہیں، جس سے تجارت مشکل ہوگئی ہے۔
ہرات کی سماجی کارکن لینا حیدری نے کہا کہ ادویات کی قلت شدید ہوتی جارہی ہے۔ قلت کے ساتھ ادویات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور مقامی مارکیٹوں میں غیر معیاری، ایکسپائریڈ یا جعلی ادویات کی فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے عوام کے لیے صحت کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارت میں انڈیگو ایئرلائن کا بحران سنگین، پائلٹس کی قلت کے باعث سینکڑوں پروازیں منسوخ
طالبان حکومت اب ادویات کے لیے دیگر ممالک پر انحصار کر رہی ہے۔ اس ہفتے طالبان نمائندوں کی موجودگی میں افغان اور بھارتی کمپنیوں کے درمیان 10 کروڑ ڈالر مالیت کی ادویات کی فراہمی کا معاہدہ ہوا۔ بھارت نے کابل کے لیے 73 ٹن جان بچانے والی ادویات، ویکسین اور طبی سامان بھی بھیجا ہے، تاہم یہ امداد ملک کی بڑی آبادی کے لیے زیادہ مؤثر نہیں ہے۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں ادویات کا بحران اب بھی سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ اگرچہ نئے معاہدے اور بین الاقوامی امداد عارضی ریلیف فراہم کر سکتے ہیں، لیکن افغانستان کے لیے مستقل اور قابل اعتماد ادویات کے ذرائع تلاش کرنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔












