08:24 , 18 جون 2026
Watch Live

یکم اکتوبر سے ناقص گاڑیاں بند، نیا سیفٹی نظام لازم

آئی ایم ایف کی نئی شرائط کے تحت پاکستان میں گاڑیوں کی تیاری اور درآمد کے سخت اصول نافذ کیے جا رہے ہیں۔ مقامی تیار شدہ گاڑیوں پر اب 57 سیفٹی اسٹینڈرڈز لاگو ہوں گے جن میں سے صرف 17 پر اس وقت عمل ہو رہا ہے۔ اکتوبر 2025 سے باقی 40 سیفٹی اسٹینڈرڈز پر عملدرآمد لازمی ہوگا۔ اس مقصد کے لیے "پاکستان آٹو موٹیو انسٹی ٹیوٹ” قائم کیا جائے گا جو گاڑیوں اور پارٹس کی کوالٹی کو چیک کرے گا۔

وفاقی حکومت نے "موٹر وہیکل انڈسٹری ڈویلپمنٹ ایکٹ 2025” تیار کرلیا ہے جو یکم اکتوبر سے نافذ العمل ہوگا۔ اس قانون کے تحت غیر تصدیق شدہ یا ناقص کوالٹی کی گاڑیاں فروخت نہیں کی جا سکیں گی۔ مینوفیکچرنگ پلانٹس کو اب ہر قسم کی گاڑی بنانے کے لیے الگ لائسنس درکار ہوگا، اور تمام گاڑیاں انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے تصدیق شدہ لائسنس کے بغیر مارکیٹ میں نہیں آسکیں گی۔

امپورٹڈ گاڑیوں کے لیے بھی سخت ضوابط لاگو کیے جا رہے ہیں۔ درآمدی گاڑی کا چیسز نمبر، انجن نمبر، لوڈ کپیسٹی، سیٹنگ کپیسٹی، ایکسل اور سیفٹی فیچرز کی مکمل تفصیلات لازمی ہوں گی۔ خراب یا ریجیکٹڈ گاڑیوں جیسے کہ ایکسیڈنٹل ٹائپ "ڈی” کی درآمد پر مکمل پابندی لگا دی جائے گی۔ 30 ستمبر کے بعد امپورٹ پالیسی آرڈر میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔

الیکٹرک گاڑیوں پر بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ درآمدی الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹری لائف، پرفارمنس، پائیداری، چارجنگ اسٹینڈرڈ اور بیٹری ری سائیکلنگ سسٹم کی جانچ لازم ہوگی۔ ناقص معیار کی گاڑیوں کی درآمد یکم اکتوبر سے مکمل طور پر بند کر دی جائے گی، اور کسی بھی گاڑی کی ماحولیاتی یا ٹیکنیکل خامی کی صورت میں اس کی امپورٹ روک دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION