بھارت کے رویے نے سارک عمل کو مفلوج کر دیا، صدر آصف زرداری کا بیان

اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کی مسلسل عدم شرکت کے باعث گزشتہ 11 برس سے سارک کا پورا عمل جمود کا شکار ہے، اور نئی دہلی کا رویہ مؤثر علاقائی تعاون کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا جا رہا ہے۔
سارک چارٹر ڈے کی 40ویں سالگرہ کے موقع پر خصوصی پیغام دیتے ہوئے صدر زرداری نے جنوبی ایشیا کی تمام حکومتوں اور عوام کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ دن علاقائی یکجہتی اور مشترکہ اہداف کے عزم کی یاد دہانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے چوتھے اور بارہویں سارک سربراہ اجلاس کی میزبانی کی جبکہ انیسواں اجلاس 2016 میں بھارت کی عدم شرکت کے باعث منعقد نہ ہو سکا، جس کے بعد سارک کا عمل مسلسل تعطل کا شکار ہے اور علاقائی ترقی کی رفتار رک چکی ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ بھارت کے غیر لچکدار رویے نے خطے کی مجموعی ترقی، امن اور رابطہ کاری کو غیر ضروری طور پر متاثر کیا ہے۔ اس صورتِ حال میں خطے کے ملک متبادل علاقائی فریم ورکس پر غور کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : صدر آصف زرداری کا این ڈی یو کا دورہ، نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایران اور چین کی ممکنہ شمولیت سے خطے میں رابطہ کاری، تجارتی تبادلوں اور اسٹرٹیجک تعاون میں مثبت اضافہ ہوگا، جو تمام رکن ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
صدر زرداری نے زور دیا کہ پاکستان ایک جامع، تعاون پر مبنی علاقائی نظام کے قیام کے لیے ہمیشہ پُرعزم رہا ہے۔ پاکستان تجارت، ٹرانزٹ، توانائی اور رابطہ کاری کے بہتر مواقع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ خطے کے مسائل مشترکہ ہیں، اس لیے ان کے حل بھی مشترکہ ہونے چاہئیں۔ باہمی احترام اور مضبوط تعاون سے جنوبی ایشیا ایک زیادہ پرامن، مستحکم اور خوشحال خطہ بن سکتا ہے۔

















